نئی دہلی،18؍ اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس نڈیا)پٹرول کی قیمتوں میں عالمی طور پر گراوٹ کے باوجود ہندستان میں پٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ رہا، اس کے بعد گیس قیمت میں اضافہ، ملک سے وعدہ خلافی، مہنگائی میں دن بہ دن اضافہ، وکاس میں ناکامی،اور جھوٹے وعدوں سے سارا ملک ، تجارتی طبقہ ، کسان، مزدور ،غریب اور عام ہندستانی دبے ہوے تھے ہی کہ نوٹ بندی کی مار نے انھیں ادھ مردہ کردیا۔ ابھی اس سے سنبھلنے بھی نہیں پائے تھے کہ کسانوں کے قرضے کی معافی کا ڈھکوسلا کیا گیا۔ اس راز کے فاش ہو کر بے آبرو ہوے تو اس شرمندگی سے نکلنے کے لیے دستور کی روشنی میں کام کرنے والی مسلم تنظیموں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ پاپولر فرنٹ آف انڈیا گاؤ رکشک ٹریرزم اور ہندوتوا دہشت گردی کے خلاف حق کی آواز اُٹھا رہا ہے اور فسطائی جماعتوں کے ظلم کے خلاف کھڑا ہے۔وہ مظلوموں کا ساتھ دیتا ہے اور ظالموں کو قانونی طور پر سزا کا مطالبہ کرتا ہے۔اس لیے فسطائی جماعتوں کی نیند حرام ہو چکی ہے۔ملک میں دستوری تحفظ و بقاء اور عوامی حقوق و انصاف کے لیے کام کرنے والی تنظیم پاپولر فرنٹ پر پابندی کی بات کرنا ملک کے لیے سب سے بڑی شرمندگی کی بات ہے۔ ایسے میڈیا اور ایسے ملک مخالف عناصر پر فوری قانونی کاروائی ہونی چاہیے۔ان باتوں کا اظہار آل انڈیا امامس کونسل کی کیرلا میں منعقد تیسری نیشنل کمیٹی میٹنگ میں کیا گیا۔آل انڈیا امامس کونسل کے قومی نائب صدر مولانا خالد رشادی نے کہا کہ: ہم عالمی برادری سے بالعموم اور ہندستانی عوام و خواص اور حکومت سے بالخصوص مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پوری مضبوطی کے ساتھ ’’جمہوریت کی بقاء ‘‘ اور ’’مذہبی آزادی ‘‘کا ساتھ دیں ۔اور فسطائی نظریات کے خلاف متحدہ طور پر آواز اُٹھائیں۔میٹنگ میں قومی نائب صدر مولانا خالد رشادی (منی پور) قومی ناظم عمومی مفتی حنیف احرار سوپولوی (گوا) نیشنل جنرل سکریٹری مولانا فیصل اشرفی (کیرلا)، نیشنل سکریٹری مولانا اکبر شاہ (کیرلا)، و مولانا عبد الغفور منبعی (تاملناڈو) قومی خزانچی مولانا عثمان بیگ رشادی (کرناٹک) مولانا امان اللہ باقوی (کیرلا) مولانا یوسف رشادی (کرناٹک) اور کیرلا اسٹیٹ پریسیڈنٹ کے علاوہ دیگر ممبران شریک تھے۔